دوست تو بہت ہے خوشی سمجھنے والے مگر غم سمجھنے والا یار کہاںتو جب آ کے ملتا ہے دل کہتا ہے تیرے جیسا یارکہاںہماری دوستی ہے ہمالیہ کے پہاڑوں کی طرحجو اسے جڑ سے ختم کردے ایسا ہتھیارکہاں
دوست تو بہت ہے خوشی سمجھنے والے مگر غم سمجھنے والا یار کہاں
تو جب آ کے ملتا ہے دل کہتا ہے تیرے جیسا یارکہاں
ہماری دوستی ہے ہمالیہ کے پہاڑوں کی طرح
جو اسے جڑ سے ختم کردے ایسا ہتھیارکہاں