کیا ھوا موسم کیوں اداس ھے
بازار بند پے انسا بدہواس ھے
ہواؤں میں ایسی گھوٹن سی ھے
جیسے خوشی میں گھولی شراب ھے
گلے ملتے ہیں یہاں سب ضرور مگر
بھرا دل میں تعصب کا فساد ھے
قیفیت ایسی ہے انساں کی ہہاں
سبک سکھانے کو جیسے بیتاب ھے
وہ بچپن کے دن جو ساتھ کھیلنے تھے
سب بھول چکے مگر نفرت یاد ھے
قاضی عظمت کمال


