دہشت کا مینے ایک منظر دیکھا ھے

چلتا پھرتا دیش میں خنجر دیکھا ھے

دھرم پےہتیا کرناکوی پاپ نھیں

لوگوں کو کہتے ئے اکسر دیکھا ھے

پیار محبت رشتے ناتیں باتیں ہیں 

اپنوں سے جلتے اپنا گھر دیکھا ھے

خود کو انساں کہنے سے کیا مطلب ہے

گناہ سے انساں کو مینے تر دیکھا ھے

ٹوٹ چوکی انسانیت کی اب زنزیرے

انساں کو شیتاں سے بدتر دیکھا ھے

رسوا نا ہو گھر کی عزت کے خاطر 

پاؤں میے بچوں کے باپ کا سر دیکھا ھے

اندھیروں سے نہ گھبرانا اب تم کمال

رات کے بعد پھر ھوتے شہر دیکھا ھے