غزل ، (۲۵، اپریل، ۲۰۱۴)
ذرا رنٌج و فِکر کرنا
میری جانب نظر کرنا
شہر سے اُنکے گزرا ہوں
اُنہیں قاصد خبر کرنا
ذرا سا مسکراؤ پھر
بھلے صرف نظر کرنا
خلاصہ بزم جاناں بس
ستم کرنا ، قہر کرنا
سنبھالو دل تمھارا ہے
اِدھر کرنا اُدھر کرنا
گزرنا دن حسابوں میں
ستاروں میں سحر کرنا
چلو سکھلائیں تم کو ہم
اندھیروں میں سفر کرنا
احسان ا لحق

