غزل احسان ا لحق ، 5، ستمبر 2014
آج پھر یاد اُن کی در آئی
اے میرے چارہ گر مسیحائی!
آنکھ نم ہے ، لبوں پہ خاموشی
کیا قیامت کہیں سے لوٹ آئی
میں نے دیکھا ہے زلف و رُخ کا ملن
شب ڈھلی،دن ہُوا ،کہ رات آئی
دل ہُوا ، گھر ہُوا یا ویرانہ
مُشترک ہے سبھی میں تنہائی
"ہے خبر گرم اُن کہ آنے کی"
مہروماہ ،گل سبھی تماشائی
رنج و غم، دُکھ،اَلم،شراب، قفس
اب سبھی سے ہوئی شناسائی
طبعیت ِ دل عجیب ہے سینا
پھر وہی ڈھونڈتا ہے رُسوائی

