آج پھر یاداُن کی در آئی
اے میرے چارہ گرمسیحائی
آنکھ نم ہے ،لبوں پہ خاموشی
کیا قیامت کہیں سے لوٹ آئی
میں نے دیکھا ہے زلف و رُخ کا ملن
شب ڈھلی،دن ہُوا ،کہ رات آئی
دل ہُوا ، گھر ہُوا یا ویرانہ
مُشترک ہے سبھی میں تنہائی
"ہے خبر گرم اُن کہ آنے کی"
مہر و ماہ، گُل سبھی تماشائی
رنج و غم، دُکھ،اَلم،شراب، قفس
اب سبھی سےہوئی شناسائی
طبعیت ِ دل عجیب ہے سینا
پھر وہی ڈھونڈتاہے رُسوائی
شیخ احسان الحق سینا
